Saturday, August 27, 2011

یاد ماضی عذاب ہے یارب

فاطمہ زار


مدتوں پہلے کسی شاعر نے اپنے رب سے ماضی کی یاد کو عذاب بتاتے ہوئے حافظہ چھین لینے کی تمنا کی تھی جو آج بھی مداحوں کی زبان کی نوک پر ہے۔دراصل سب کی زندگی میں بعض واقعات ایسے پیش آتے ہیں کہ جو کبھی بھلائے نہیں بھولتے۔ ان میںکچھ واقعات بہت خوشگوار ہوتے ہیں جبکہ بعض بہت ہی تکلیف دہ! خوشگوار واقعات کی یاد جب آتی ہے تو ہمارے چہرہ پر مسکراہٹ آ جاتی ہے اور ہم دل ہی دل میں اس واقعہ کو یاد کر کے خوش ہوتے ہیں، ایسے واقعات عموماً مختصر ہوتے ہیں‘ اس کے برعکس نا خوشگوار واقعات کی یاد بہت دیرپا اور تکلیف دہ ہوتی ہے۔ کچھ یادیں امتحان سے وابستہ ہوتی ہیں کہ امتحان بہت سخت تھا، سخت پریشانی تھی اور نیندیں اڑ گئی تھیں۔ کچھ یادیں بعض مشکل اور تکلیف دہ واقعات سے وابستہ ہوتی ہیں جو کبھی نہیں بھلائی جا سکتیں اور نہ ہی وہ جلد نجات دیتی ہیں۔ پندرہ اگست‘پیرکے روز ایک امریکی تحقیقی جریدے میں شائع ہونے والی اس نئی ریسرچ نے ماضی کو یاد کو عذاب سے تشبیہ دینے کی گویا تائید کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ بچپن میںکی گئی بد سلوکی اور زیادتی کا شکار رہنے والے لوگ بعد میںڈپریشن یعنی یاسیت کے شکارہوجاتے ہیںجس سے ان کی زندگی دوبھر ہوجاتی ہے۔ اس نئی تحقیق میں ڈینس نے بتایا ہے کہ بچپن میں بد سلوکی یا پھر زیادتی کا شکار رہنے والے ڈپریشن کے شکار مریضوں میں جینیاتی تبدیلیاں بھی رونما ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق یہ جینیاتی تبدیلیاں ممکنہ طور پر اس سوال کا جواب دے سکتی ہیں کہ ڈپریشن کے شکار زیادہ تر افراد کا موثر علاج کیوں نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ وہ ابھی تک یہ نہیں جان پائیں کہ ایسے مریضوں کا بہت بہتر علاج کس طرح کیا جا سکتا ہے۔ چھبیس مطالعاتی جائزوں پر مشتمل اس نئی تجزیاتی رپورٹ کے نتائج حاصل کرنے کیلئے 23افراد کو مطالعے میں شامل کیا گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق یہ وہ افراد تھے جن کے ساتھ بچپن کے ایام میں ناخوشگوار واقعات رونما ہوئے ہوئے تھے۔ ان تمام لوگوںمیں عام افراد کی نسبت ڈپریشن کا شکار ہونے کے امکانات دو گنا زیادہ پائے گئے جبکہ ڈپریشن دنیا کی سب سے زیادہ عام ہی نہیں بلکہ مہنگی ترین بیماریوں میں سے ایک ہے۔اس تجزیاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وہ افراد جو بچپن میں ذہنی دباو ¿ یا بدسلوکی کا شکار رہتے ہیں‘ ان کا علاج نفسیاتی طور پر یا پھر دوائیوں کے ذریعے کرنا بھی نہایت مشکل ہو جاتا ہے۔ اس رپورٹ میں ڈاکٹروں اور سائنسدانوں کو علاج کے نئے طریقے ڈھونڈنے کیساتھ ساتھ بچپن میں بدسلوکی کا شکار رہنے والے انسانوں کا علاج جلد از جلد شروع کرنے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے۔کنگز کالج آف لندن میں یہ تحقیق کرنے والی ٹیم کی سربراہ آندریا ڈینس کا کہنا ہے کہ دیرپا ڈپریشن کا شکار رہنے والے افراد کی نشاندہی اور علاج صحت عامہ کے نقطہ نظر سے بھی انتہاہی اہم ہے۔ ڈینس کا کہنا ہے کہ اس بیماری کے شکار افراد کا جلد از جلد علاج شروع کرنے سے صحت سے متعلق اس عالمی مسئلے کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔ واضح رہے کہ دنیا بھر میں ڈپریشن کو موت اور معذوری کے ساتھ ساتھ اقتصادی بوجھ کی بھی ایک اہم وجہ قرار دیا جاتا ہے۔عالمی ادارہ صحت پر یقین کریں تو سن 2020 تک ڈپریشن کو دنیا کی دوسری بڑی بیماری کا درجہ حاصل ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ بیماری برطانیہ میں کسی بھی وقت 10 افراد میں سے ایک کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے جس سے وہ شخص نہ صرف طویل مدت کیلئے صاحب فراش ہوجاتا ہے بلکہ اپنی ملازمت سے بھی ہاتھ دھوبیٹھتا ہے۔سن 2006 میں شائع ہونے والی ایک دوسری تحقیق کے مطابق برطانیہ اور ویلز میں ڈپریشن کے شکار افراد کے بیمار ہونے کی وجہ سے سالانہ بنیادوں پر کام کے 100 ملین دن ضائع ہو جاتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس نقصان کی اقتصادی مالیت نو بلین پاونڈ بنتی ہے۔وطن عزیز میں بھی موجودہ ملکی سیاسی’سماجی و معاشی حالات کے باعث ڈپریشن کے مرض میں انتہائی اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سلسلے میں حکیم قاضی ایم اے خالدنے خوب رہبری کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ڈپریشن کے خاتمہ کیلئے وضو ’ نمازپنجگانہ اور تراویح کی ادائیگی انتہائی فائدہ مند ہے۔ جدید تحقیقات کے مطابق ڈپریشن کے خاتمہ کیلئے وضو ‘نماز پنجگانہ اور تراویح کی ادائیگی کو دنیا بھر کے محققین نے تسلیم کیا ہے۔امریکن ہاروڈ یونیورسٹی کے ایک معروف محقق ڈاکٹر ہربرٹ بِنسن نے اپنی ایک تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ دوران نماز تراویح قرآنی آیات بار بار سننے اور ذکر الٰہی سے عضلات میں تحریک پیدا ہونے کے علاوہ ذہن برے خیالات سے پاک ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے ایک خاص قسم کا ’ری لیکسیشن ریسپونس‘وجود میں آتا ہے جس سے بلند فشارِ خون میں واضح کمی نمودار ہونے کے علاوہ جسم میں آکسیجن کی تقسیم میں بہتری سے ‘قلب اور پھیپھڑوں کی کارکردگی بہتر ہو جاتی ہے۔قاضی خالد نے کہا کہ دنیا میں اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس میں نمازوں اور تراویح میں جسم کی حرکات و سکنات’ روحانی ورزش کے طورپر استعمال ہوتی ہیں۔ اگر ایک مسلمان نمازیں اور تراویح باقاعدہ ادا کرتا ہے تو وہ نہ صرف زندگی کے مشکل ترین کام اور بھی بخوبی انجام دینے کے قابل بن جاتا ہے بلکہ اس سے بیسیوں طبی و روحانی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔حکیم خالد نے کہا کہ نماز پنجگانہ اور باقاعدہ تراویح پڑھنے سے اضافی حرارے جلتے ہیں جس سے موٹاپے اور اضافی وزن میں کمی پیدا ہو جاتی ہے۔بند جوڑ کھل جاتے ہیں اورہڈیوںو عضلات میںمضبوطی پیدا ہو جاتی ہے۔میٹابولزم کی رفتار میں سرعت اورگردشِ خون پر خوشگوار اثرات پڑتے ہیں۔رفتارِ قلب اور کولیسٹرول اعتدال پر رہتا ہے۔یکسوئی اور مکمل دھیان سے مراقبہ کے تمام فوائد حاصل ہوتے ہیںیاداشت میں بہتری آجاتی ہے پریشانی اور افسردگی سے چھٹکاراحاصل ہوتا ہے۔ڈپریشن یاسیت اوربے خوابی سے نجات مل جاتی ہے۔جسمانی اور ذہنی دباو  دور ہو کرروح کی پاکیزگی اور تازگی حاصل ہوتی ہے نظام تنفس اورقلب پر مثبت اثرات پڑنے سے دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا ہونے کے امکانات میں کمی پیدا ہوتی ہے۔ہڈیوں کی بیشتر بیماریوںسے تحفظ حاصل ہوتا ہے۔اس کے علاوہ بعض محققین کے مطابق عبادت کا یہ انداز اینٹی ایجنگ کیفیت رکھتا ہے نیزبڑھاپے میں بھی متحرک اور فعال رہا جا سکتا ہے ۔تمام نمازوں اور تراویح کی ادائیگی سے رضائے پروردگار حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ طبی فوائد حاصل کر کے ایک بہترین اورصحت مند زندگی گذاری جا سکتی ہے۔
fatimazara0786@gmail.com