Monday, May 16, 2011

اسلام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اورذاکر نائک پر پابندی


The Trouble with Dr. Zakir Naik فاطمہ زارا
افغانستان میں بامیان مجسموں کی تعمیر نو سے موجودہ طالبان تحریک تک بے شمار معاملوں میں اپنے موقف کی بنیاد پر خبروں میں سرفہرست رہنے والے ذاکر نائک ان دنوں میڈیا میںزیر بحث ہیں۔یہ بحث اس وقت شروع ہوئی جب برطانیہ نے ہندوستان سے تعلق رکھنے والے مبلغ ذاکر نائیک کی برطانیہ آمد پر’ناقابل قبول طرز عمل‘ کی بنیاد پر پابندی عائد کر دی ۔وہ بھی اس لئے کہ چوالیس سالہ ڈاکٹر نائیک لندن اور شفیلڈ میں لیکچر دینے والے تھے۔
نئی دہلی میںانڈین اصلاحی موومنٹ کے صدر ، آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کے رکن معروف ملی رہنما مولانا عبدالوہاب خلجی کا برطانوی وزارت داخلہ کے حوالہ سے اخبارات میں شائع شدہ بیان پر رد عمل روزنامہ’ہماراسماج‘22جون میں منظر عام پرآیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی شہرت یافتہ داعی و مبلغ اسلام ڈاکٹر ذاکر نائک کے مختلف بیانات کو توڑ مروڑ کر ان کے برطانیہ میں داخلے پر پابندی اسلام ومسلمانوں کے تئیں برطانیہ کے تعصب اور چھپی جارحیت کا شاخسانہ اور تعلیمات اسلام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا نتیجہ ہے۔ ڈاکٹر نائک قرآن وحدیث کی روشنی میں د عوت اسلام کو عام کرنے اسلام اور مسلمانوں کے تئیں پیدا کردہ شکوک وشبہات کے ازالہ دلائل و شواہد کی روشنی میں غلط فہمیوں کے خاتمہ کےلئے سرگرم عمل اور دہشت گردی کے خلاف برسر پیکار ہیں۔ ان پر دہشت گردی کو ہوا دینے کا الزام انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ دین اسلام کی مقبولیت اور ایک عام انسان کی اس جانب رغبت نے اعدائے اسلام کی نیندوں کو حرام کر دیا ہے۔مولانا موصوف کا ماننا ہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائک ایک کھلی کتاب ہیں۔ ان کے بعض دینی افکار سے اختلاف کی گنجائش ہے مگر دہشت گردی، دہشت اور دہشت گردوں کے مخالف رہے ہیں البتہ وہ مسلمانوں کو شدت کے ساتھ اسلام کا پیروکار بننے کی تلقین کرتے رہے ہیں۔ اسلامی تعلیمات کی اتباع دہشت گردی نہیں بلکہ پرامن معاشرے کی تشکیل کا اہم جرو ہے کوئی مسلمان دہشت گرد یا دہشت گردی کا حامی وموید نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی دہشت گرد مسلمان ہوسکتا ہے۔ مولانا عبدالوہاب خلجی نے کہا کہ ذاکر نائک پر پابندی کا سبب وہ الزامات نہیں جو ان پر عائد کئے گئے ہیں بلکہ اصل سبب ذاکر نائک کی طرف سے مختلف آسمانی صحیفوں اور مذہبی کتابوں میں کی گئی تبدیلیوں ، تحریفات کا اجاگر کرنا ہے جو ان کے پیروں کاروں نے کر رکھی ہیں اور اس حقیقت کے اظہار سے حقیقت وانصاف پسندلوگ تیزی دین اسلام کی طرف راغب ہو رہے ہیں ۔انہوںنے برطانوی وزارت داخلہ کے ذاکر نائک کے برطانیہ میں داخلہ پر پابندی کو ایک غیر منصفانہ وغیر جمہوری فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کلیساءویوروپ نے اسلام اور مسلمانوں کے تئیں ہمیشہ معاندانہ رویہ اختیار کیا ہے اور اسلامی تعلیمات اور مسلم شخصیات کو بدنام و مطعون کر کے لوگوںمیں نفرت کے بیج بونا ان کے اہم اصولوں میں شامل ہے۔
یہاں یہ بتاتے چلیں کہ برطانیہ کی ہوم سیکرٹری تھریسا مئی کا کہنا ہے کہ برطانیہ آنا ’حق نہیں، رعایت ہے۔‘ہوم سیکرٹری کو اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کے برطانیہ آنے پر پابندی لگا دیں جسے وہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتی ہوںلیکن وہ لوگوں کو صرف ان کے نظریات کی بناءپر برطانیہ آنے سے نہیں روک سکتیں۔تھریسا مئی کا کہنا ہے کہ:’ ڈاکٹر ذاکر نائیک کی جانب سے کئے گئے بے تحاشا تبصرے میرے لیے ان کے ناقابل قبول طرز عمل کا ثبوت ہیں۔‘’برطانیہ آنا ایک رعایت ہے، حق نہیں اور میں ایسے افراد کو برطانیہ آنے کی اجازت نہیں دینا چاہتی جن کی آمد عوام کی بھلائی کے لیے سازگار نہ ہو۔‘گذشتہ ماہ تھریسا مئی کے ہوم سیکرٹری بننے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کسی کو برطانیہ آنے سے روکا گیا ہے۔یہاں یہ بتانا ضروری ہوگا کہ ذاکر نائیک کا تعلق ممبئی سے ہے اور وہ ایک نجی ٹی وی چینل کے لیے کام کرتے ہیں۔
ذاکرنائک جن کا پورا نام عبدالکریم ذاکر نائیک ایک زبردست مقرراور دانشور شمار کئے جاتے ہیںجو تقابل ادیان اور مناظروں کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں۔ پیشہ کے لحاظ سے آپ ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں، تاہم آپ نے 1991ءسے اسلام کی تبلیغ کو اپنی مکمل توجہ دینا شروع کر دی۔ آپ عیسائی ، ہندو وغیرہ سے مناظرہ میں مشہور ہیں۔ بہت سے لوگوں نے آپ کے ہاتھ اسلام قبول کیا۔ آپ بمبئی میں اسلامی تحقیق سنٹر کے صدر ہیں اور اسلامی چینل ’پیس‘کے نام سے چلا رہے ہیں۔
18 اکتوبر ، 1965کو جنم لینے والے عہد حاضر میںجمعیت اہل حدیث مکتبہ فکر کے ترجمان ڈاکٹر ذاکر عبدالکریم نائک کے نام نامی سے مسلم طبقہ ہی نہیں بلکہ غیر مسلم بھی خوب متعارف ہے۔وجہ صاف ہے کہ ڈاکٹر موصوف نے نہ صرف اپنی تصانیف کے ذریعہ بلکہ تقاریر میں بھی اسلام پر چالیس(40) اعتراضات کے عقلی و نقلی جواب دئے ہیں۔اسی پر بس نہیں بلکہ مذاہب عالم میں تصور خدا اور اسلام کے بارے میں غیر مسلموں کے بیس سوالوں کے جواب دینے کی وجہ سے بھی انھیں زبردست مقبولیت اور شہرت ملی ہے۔انھوں نے جدید سائنس کی روشنی میں بائبل اور قرآن کو بھی پیش کیا ہے۔ساتھ ہی ایک تقابلی مطالعہ کے ذریعہ انھوں نے اسلام اور ہندومت کوپیش کیا ہے۔ان کی تصنیف ’اسلام میں خواتین کے حقوق ... جدید یا فرسودہ؟ ‘ کو بھی پذیرائی نصیب ہوئی ہے۔

No comments:

Post a Comment